به گزارش خبرگزاری شبستان، در بخشی از پیام حجت الاسلام مولانا ابن حسن املوی با اشاره به شکست های پی در پی جبهه استکبار از انقلاب اسلامی ایران، تاکید شده است: بیش از چهل سال از تأسیس جمهوری اسلامی میگذرد، اما جبهه استکبار هرگز اجازه نداده است که ایران در صلح و آرامش زندگی کند.
وی با اشاره به اقدامات خصمانه علیه جمهوری اسلامی ایران از جمله تحمیل جنگ، تحریم های ظالمانه، ترور شخصیت های دینی و سیاسی و… خاطرنشان کرد: رهبر انقلاب اسلامی، آیتالله خامنهای، حفظه الله، با تمام شکوه، جلال و عظمت خود در میدان نبرد میجنگد و شجاعانه ملت را در میدان رهبری میکند.
در بخش های پایانی این بیانیه آمده است: باید به خاطر داشت که جمهوری اسلامی ایران نماد حقیقت و صداقت، نماد شجاعت و جسارت، صخره صبر و شجاعت، مهد دانش و آگاهی است. هرگونه حملهای به آن بزدلانه و تجاوزکارانه تلقی شده و انجام خواهد شد… با نگاهی به وضعیت تاکنون، پس از رصد اخبار جهان در بیش از چهل سال گذشته، برای جهانیان مانند روز روشن شده است که ایران از هر نظر کشوری شجاع و قدرتمند است که حتی ابرقدرتهای به اصطلاح آمریکا و اسرائیل باید قبل از حمله به آن صد بار فکر کنند.
متن کامل بیانیه به زبان اردو به شرح زیر است:
اسلامی جمہوری ایران حق وصداقت کی علامت،ہمت و جرأت کی پہچان،صبر شجاعت کی چٹان ، علم و آگہی کا گہوارہ ہے
کتنے بے حیا ،بے شرم،بے غیرت، عقل کے اندھے ،جہالت کے پلندے ہیں وہ لوگ جو بار بار کسی سے ہر مقابلہ میں بالخصوص علم و سائنس و ٹیکنالوجی اور میدان کارازار میں پٹخنی کھانے کے باوجود جب کسی طرح لڑکھڑاتے،ڈگمگاتے،ہانپتے،کانپتے،شکست خوردہ آدمی کی طرح اٹھ جاتے ہیں تو پھر وہی ڈرتے ،سسکتے ،تھرتھراتے ،کپکپاتے لہجے میں رٹ الاپنے لگتے ہیں کہ ’’اب پٹخو تو جانیں‘‘۔ یہ حال ہے اسلامی جمہوری ایران کے مقابلہ میں امریکہ ،اسرائیل اور ایران دشمن بعض ممالک جو اپنے خیال خیام میں خود کو سپر پاور،دولتمند،ترقی یافتہ،تعلیم یافتہ،مہذب،متمدن،ایڈوانس وغیرہ کہلاتے ہیں۔یہ سب مل کر ایک اسلامی جمہوری ملک ایران کو دبانے، جھکانے،مٹانے ،کمزور کرنے کی ہر ممکن ہمہ وقت کوشش کر رہے ہیں مگر بار بار ایران سے مات کھا جانے کے بعد بھی اپنی شیطانی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں۔بار بار یہ منظر علامہ اقبال کے شعر کی شکل میں دنیا کے منظر نامہ پر ابھرکر سامنے آتا رہتا ہے:۔
آزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس سامنے تقدیر کے رسوائی تدبیر دیکھ
وہ تقدیر جس کی آس علامہ اقبال لگائے ہوئے تھے:
تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
۱۹۷۹ ء کا اسلامی انقلاب ایک عوامی تحریک تھی جس نے امام روح اللہ خمینی اعلی اللہ مقامہ کی قیادت میں محمد رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کا خاتمہ کر کے ولایت فقیہ کے اصول پر مبنی حکومت کے لیے اسلامی انقلاب برپا کیا گیا ۔ اسلامی جمہوریہ قائم کی گئی اس کے بعد سے آج تک چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا مگر کبھی بھی دنیا والوں نے ایران کو چین و سکون سے زندہ نہیں رہنے دیا۔کبھی آٹھ سالہ عراق و ایران جنگ مسلط کی گئی،کبھی کوئی پابندی عائد کی گئی،کبھی کوئی پابندی لگائی گئی،کبھی ایران و اسرائیل کی ۱۲روزہ یادگار جنگ میں الجھایا گیا۔کبھی ایران کے اعلیٰ درجے کے سائنسد انوں،سیاسی اور مذہبی بلند پایہ رہنماؤں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا ۔کبھی خود امریکہ نے ہوائی حملہ کیا،کبھی موساد اور سی آی اے نے ایران کے اند خانہ جنگی کی صوررت پیدا کرنی چاہی۔ کبھی حکومت کا تختہ پلٹنے کی غرض سےپر تشدد مظاہرے کروائے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای دام ظلہ العالی کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی،کبھی ان کو ان کی فیملی کے ساتھ جان سے مار دینے کی سازش کی گئی مگر واہ رے قدرت جس کو اللہ رکھے اس کو کون چکھے۔۸۶؍سال کے بزرگ روحانی پیشوا،آیۃ اللہ خامنہ ای مدظلہ العالی اپنی تمام تر شان و شوکت ،ہیبت و جلالت کے ساتھ مردانہ وار میدان عمل میں ڈتے ہوئے ہیں۔انتہائی خطرناک موقعوں پر بھی نماز جمعہ کی امامت بھی کرتے ہیں اور عوام کے سامنے آکر قوم کی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔گویا علامہ مہ اقبال کا یہ شعر ببانگ دہل سنا رہے ہیں :۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم سو بارکرچکا ہے تو امتحاں ہمارا
آخر میں خود رہبر معظم کا ہی یہ قول پیش کرنا چاہوں گا جو آپ نے صدر امریکہ ٹرمپ کو مخاطب کر کے کہا ہے:اگر ہم کو سمجھنا چاہتے ہو تو کتاب کربلا کا مطالعہ کرو۔ جس کا پیغام ہے ’’ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر‘‘۔رہبر معظم نے اپنے علم و حکمت،تدبر تفکر،قائد انہ صلاحیت و قابلیت کے زور پر دنیا پر یہ ثابت کردکھایا ہے کہ اسلامی اصطلاح میں رہبر بھگوڑا نہیں ہوتا اور بھگوڑا رہبر نہیں ہوتا۔ماننا پڑے گا یہ شاہ لافتیٰ کا پسر بھی جوان مرد ہے۔
یاد رہے کہ اسلامی جمہوری ایران حق وصداقت کی علامت،ہمت و جرأت کی پہچان،صبر شجاعت کی چٹان ،علم و آگہی کا گہوارہ ہےاس پر کسی بھی طرح کا حملہ بزدلانہ اور جارحانہ تصور کیا جاتا ہے اور کیا جائے گا۔دنیا دیکھ رہی ہے اور محو حیرت ہے کہ قریب ایک ہفتہ سے زیادہ دن ہو گئے جب امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لئے اپنے مشہور زمانہ بحری بیڑا’’ ابراہم لنکن‘‘ سمیت تمام جنگی ساز و سامان کے ساتھ ایران کے ارد گرد منڈ لا رہا ہے اور ایران و امریکہ جنگ کے انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑے ہیں ۔ خدا کرے جنگ کی نوبت نہ آئے اور کوئی سفارتی معقول پائیدار حل دونوں کے درمیان میں طے پا جائے کیونکہ جنگ بہرحال کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔لیکن یہ بات تو اب تک کے حالات کو دیکھتے ہوئے ،چالیس سال سے زیادہ طویل عرصے سے اخبارر عالم کا مشاہدہکرنے کے بعد روز روشن کی طرح دنیا پر آشکار ہوچکی ہے کہ ایران ہر لحاظ سے اتنا بہادر اور طاقتور پاور فل ملک ہے کہ جس پر حملہ کرنے کے لئے نام نہاد سپر پاور امریکہ ا ور اسرائیل کو بھی سوبار سونچنا پڑتا ہے۔
تحریر :حجۃ الاسلام مولانا ابن حسن املوی
ترجمان مجمع علماءوواعظین پوروانچل
نظر شما